Posts

Dr Abdul Qadeer Khan

Image
  ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میں 26 اگست کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تشویشناک حالت کے باعث کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ہسپتال کے کوویڈ وارڈ میں داخل کردیا گیا۔ ان کے انتقال کی تصدیق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کی ہے۔        آپ کو یور نیم کی افردو گی کے ارزاں طریقے کی دریافت کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔1936ء میں  بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ وہیں ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ 1952ء میں کراچی آئے ۔ ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ بعد ازاں ملازمت ترک کر کے مٹالرجی (دھات کاری) کی جدید ٹکنالوجی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے برلن چلے گئے۔ پھر ہالینڈ آگئے اور ڈیلنٹ یو نیورسٹی میں مٹالرجی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ وہیں انہیں پروفیسر ڈاکٹر ڈبلیو جی برجرز کی رفاقت میسر آئی۔ 1977ء میں پاکستان آگئے. اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کی ترغیب دی اور ہر ممکن طری...

اعجاز احمد بٹ (بحثیت افسانہ نگار)

 سرگودھا کی سرزمین ادبی حوالے سے بہت زرخیز بھی ہے ۔ اس نے علم و ادب کی آبیاری میں ہمیشہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے اور ادبی روایت کو قائم رکھا ہے ۔ذوالفقار احسن دبستان سرگودھا کی ادبی تٹلیٹ  کا ایک اہم نام ہے ۔انہوں نے سرگودھا میں ڈاکٹر وزیر آغا کی ادبی تحریک کے جلو میں آنکھ کھولی اور اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا ۔انہیں وزیر آغا کی ادبی محفلوں' مذاکروں اور مشاعروں سے مستفید ہونے اور اپنے تخلیقی ذوق کو ابھارنے کے بھرپور مواقع میسر آئے ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی ارادت میں شائع ہونے والے موقر ادبی جریدے "اوراق" نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزیدابھارنے اور جلا بخشے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے شاعر ' نقاد محقق اور براڈکاسٹر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے اور پوری آب و تاب سے ادبی افق  پر جلوہ گر ہیں ۔  ۔ اب ان کی نئی مرتبہ کتاب " اعجاز احمد بٹ  (بحثیت  افسانہ نگار)" شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے  خواجہ صاحب کے فکر و فن پر مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین شامل کیے ہیں ۔ اس کتاب میں  ذوالفقار حسن کا ایک  مضم...

Death of Umar Sharif

Image
  معروف ادکار اور کامیڈین عمر شر انتقال کر گئے ۔ عمر شریف کو علاج کے لیے امریکا لے جایا جا رہا تھا تاہم طبعیت خراب ہونے پر عمر شریف کو جرمنی کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ امریکا پہنچنے سے قبل ہی عمر شریف اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ ۔ عمر شریف کی اہلیہ نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ عمر شریف کے انتقال پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی جا رہی ہے ۔ محمد عمر ، جو پیشہ ورانہ طور پر عمر شریف کے نام سے جانا جاتا ہے ، 19 اپریل 1955 کو پیدا ہوا تھا۔. وہ ایک پاکستانی اداکار ، مزاح نگار ، ہدایت کار ، پروڈیوسر اور ٹیلی ویژن شخصیت تھے۔. انہیں برصغیر کے سب سے بڑے مزاح نگاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔. 1974 میں ، عمر نے 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکار کی حیثیت سے کراچی میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔. انہوں نے اسٹیج کا نام عمر ظریف  کا استعمال کرتے ہوئے تھیٹر میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں اس کا نام عمر شریف رکھ دیا۔. ان کے کچھ انتہائی مشہور کامیڈی اسٹیج ڈرامے 1989 کے بکرا قسطوں پہ  اور بڈا گھر پر ہے تھے۔.ڈرامہ س...

ثمینہ گل کی کتاب دیدم

Image
 محترمہ ثمینہ گل صاحبہ کی کتاب "دیدم" پر اظہار خیال۔۔!! ادب کی فضا ہمیشہ سے خواتین کے لیے دشوار رہی ہے لیکن چند خواتین اپنی محنت اور لگن کی بدولت اپنا نام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نام "محترمہ ثمینہ گل" کا ہے۔ آپ اس وقت نہ صرف سرگودھا کی پہچان ہیں بلکہ آپ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خود اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی۔ آپ اپنی پہچان کرواتے ہوئے کہتی ہیں کہ:- عرق ہوں تھکن کا میں خوشبوئے گلاب ہوں دوستی جنوں سے ہے کوئے اضطراب ہوں آپ بہت خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ آپ کی شاعری میں تشبیہ و استعارہ کے استعمال کے ساتھ ساتھ منظر کشی بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں پھول، خوشبو، سورج، چاند، ستارے اور چراغ وغیرہ جیسی علامتیں استعمال کی ہیں اور ہر جگہ یہ الفاظ ایک الگ مفہوم پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کا زندگی کو دیکھنے اور اسے محسوس کرنے کا طریقہ کسی سے جدا نہیں۔ آپ کے نزدیک زندگی تکلیف اور اذیت کا نام ہے اور اکثر آپ اپنے ہونے کا گلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اشعار دیکھیے:- ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی ۔۔۔ کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چ...

مصاحبے

Image
  آج اسالیب کے دفتر میں جناب ذوالفقار احسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موقع پر ان سے عصری ادبی منظر نامے، جامعات میں ادبی تحقیق اور شکیب جلالی کی شاعری کے علاوہ متعدد ادبی موضوعات پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب کا تذکرہ بھی کیا جو کہ اردو افسانے کی تنقید پر مشتمل ہے ۔  ۔ ۔ انہوں نے مجھے  اپنی کتاب "خواجہ اعجاز احمد بٹ بطور اقبال شناس" بھی عطا کی۔اس میں خواجہ صاحب کے سوانحی خاکے کے علاوہ ان کی اقبال شناسی پر لکھے گئے دیگر ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے اقبالیات پر اردو اور  انگریزی میں لکھے گئے  مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں  ۔  ۔ ۔  اس کے علاوہ ذوالفقار حسن نے مجھے فادر مختار عالم کی پنجابی شاعری کی کتاب "ابا میرے وچ"بھی عطا کی۔ اس کتاب میں مختار عالم کے شعری سفر اور ان کی شاعری کی جہات اور میلانات کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف،ذوالفقاراحسن، اور نسیم  اقبال بھٹی کے مضامین بھی شامل ہیں۔جن سے فادر مختار عالم کی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ذوالفقار احسن نے مجھے "حاج...

جنگ یمامہ

 *جنگ یمامہ*   مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی  جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی   اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔  خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں   یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"  بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:  مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے   درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"  صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ   سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ   خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔  13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو   اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔  یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی   نہ کبھی بعد میں لڑی"  اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد   خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259   صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ  کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے   ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔  اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی   ا...

ایم فل کے طلبہ کا امتحان

 آج مجھے  یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس میں ایم فل (اردو) کے طلبہ کا زبانی امتحان لینے کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اس بات پر خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ طلبہ نے اپنے موضوع کا کامیاب دفاع کیا۔اس کامیابی پر میں طلباء کو اور ان کے نگران صاحبان ڈاکٹر ارشد محمود ملک اور ڈاکٹر عبدالستار نیازی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔یونیورسٹی آف لاہور کا شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاحب کی سرپرستی میں معیاری تحقیقی کام کر رہا ہے۔انہوں نے سندی تحقیق میں معیار قائم رکھا ہوا ہے۔  . اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ کے ساتھ متعدد عالمی موضوعات پر گفتگو بھی ہوئی بالخصوص پروفیسر  ڈاکٹر مقبول نثار ملک،ڈاکٹر عابد خورشید ،ڈاکٹر عبدالستار نیازی اور ڈاکٹر ارشد ملک صاحب کے ساتھ ادب میں دینی روایت اور دینی نثر کے اسالیب کے علاوہ اسلام میں علم الکلام کی روایت میں معتزلہ اور اشاعرہ کے کردار اور معاصر متکلمین کی فکر کی مختلف جہتوں پر دلچسپ گفتگو ہوئی۔اس موقع پر میڈم ثمینہ گل اور میڈم رقیہ شبیر صاحبہ بھی موجود تھیں۔   ۔ ۔ میں نے موقع کی مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاح...