ثمینہ گل کی کتاب دیدم
محترمہ ثمینہ گل صاحبہ کی کتاب "دیدم" پر اظہار خیال۔۔!!
ادب کی فضا ہمیشہ سے خواتین کے لیے دشوار رہی ہے لیکن چند خواتین اپنی محنت اور لگن کی بدولت اپنا نام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نام "محترمہ ثمینہ گل" کا ہے۔ آپ اس وقت نہ صرف سرگودھا کی پہچان ہیں بلکہ آپ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خود اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی۔ آپ اپنی پہچان کرواتے ہوئے کہتی ہیں کہ:-
عرق ہوں تھکن کا میں
خوشبوئے گلاب ہوں
دوستی جنوں سے ہے
کوئے اضطراب ہوں
آپ بہت خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ آپ کی شاعری میں تشبیہ و استعارہ کے استعمال کے ساتھ ساتھ منظر کشی بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں پھول، خوشبو، سورج، چاند، ستارے اور چراغ وغیرہ جیسی علامتیں استعمال کی ہیں اور ہر جگہ یہ الفاظ ایک الگ مفہوم پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
آپ کا زندگی کو دیکھنے اور اسے محسوس کرنے کا طریقہ کسی سے جدا نہیں۔ آپ کے نزدیک زندگی تکلیف اور اذیت کا نام ہے اور اکثر آپ اپنے ہونے کا گلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اشعار دیکھیے:-
ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو
آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی
۔۔۔
کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چھانتے
لائی ہے آسمان سے تقدیر کھینچ کر
۔۔۔
زندگی آگ ہے اور آگ کی خاطر ہم نے
دیپ کی آنکھ میں جلتا ہوا چہرا دیکھا
۔۔۔
ایک طرف جہاں آپ زندگی کو سزا اور اذیت سمجھتی ہیں تو وہیں دوسری طرف آپ نے اسے محبوب سے جوڑ کر خوبصورت بنا دیا ہے۔ گویا کوئی ایک شخص جس کے مل جانے سے آپ کی ذات کی تکمیل ہو گئی ہو۔ آپ کو کامل یقین ہے کہ اسی شخص کی وجہ سے آپ کو بنایا گیا اور پھر اسی شخص کے لیے آپ کو زمین پر اتارا گیا جیسے حضرت آدم کے لیے اما حوا کی تخلیق ہوئی اور دونوں کو زمین پر اتارا گیا۔ اشعار دیکھیے:-
بڑی چاہ سے تھا پکارا کسی نے
تبھی تو زمیں پہ اتارا کسی نے
۔۔۔
ایک بار میں نے بھی زندگی کو دیکھا تھا
روز یہ نہیں ہوتے حادثے محبت کے
۔۔۔
کان میں کب صدا کی طلب تھی کوئی
جان کہہ کہہ کے ہم کو بلایا گیا
۔۔۔
آپ اکثر اپنی شاعری میں تنہائی اور محبت کے نہ ہونے کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اس شکوے میں ایک بغاوت بھی نظر آتی ہے جو حالات کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے اور مجبوریوں کے آگے گھٹنے ٹیکنا نہیں چاہتی۔ انسان کی زندگی میں حالات ایک سے نہیں رہتے۔ نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں۔ ممکن ہے کہ شاعرہ کی زندگی میں بھی کچھ ہجر کے لمحے آئے ہوں لیکن یہ لمحے بھی فقط وصل کی اہمیت بتانے کے لیے ہوں۔ شاعرہ نے شکوہ کیا ہے لیکن یہ شکوہ بھی ایک خوبصورت انداز میں ہے۔ اشعار دیکھیے:-
بتا! بلبل وہاں جا کر وہ گانا کیوں نہیں گایا
جسے سن کر محبت سے نظارے رقص کرتے ہیں
۔۔۔
جن کے بغیر زیست مکمل نہ تھی کبھی
ان کے بغیر زیست گزر جانے دیجیے
۔۔۔
آپ اپنی شاعری میں اپنے ارد گرد کے ماحول اور لوگوں کی منافقت سے عاری دکھائی دیتی ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ اپنے محبوب سے عالم ارواح میں مل چکی تھیں اور وہی مقام محبت کے لیے درست تھا کیوں کہ دنیا کی نظروں میں ایسے جذبات کی کوئی قیمت نہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ:-
وہ زمین اور تھی آسمان اور تھا
ہم ملے تھے جس جگہ وہ جہان اور تھا
۔۔۔
آپ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:-
گئے دنوں کا کبھی جو تم کو ملال آئے تو لوٹ آنا
نئی رتوں میں گلاب رت کا جمال آئے تو لوٹ آنا
۔۔۔
آپ کی ذات میں حسن پرستی کے عناصر بھی موجود ہیں۔ آپ نے نہ صرف حسن پسند کیا بلکہ اسے اپنی شاعری کا حصہ بھی بنایا۔ آپ کی شاعری میں جمالیات واضح ہیں۔ آپ کی شاعری میں نرگسیت بھی نمایاں ہے۔ کبھی یہ آپ کے محبوب کے تعارفی کلمات کی صورت میں ملتی ہے تو کبھی خود اپنی تعریف کی صورت میں۔ اشعار دیکھیے:-
جابجا تھی زمیں پہ پھیلی ہوئی
چشمِ نرگس کا ارتقا دیکھا
۔۔۔
یہ پائل کی چھن چھن، یہ کنگن کی گن گن
صداؤں کا جیون نکھارا کسی نے
۔۔۔
میں نے کہا کہ رات کے دامن میں کون تھا
اس نے کہا کہ زلف پہ شبنم گرا کے دیکھ
۔۔۔
کون جانے کہاں سے آئی ہو
کس کے آنگن کی روشنی ہو تم
۔۔۔
آپ کی شاعری میں آگ، دھوپ اور دھواں جیسی علامتوں کے ذریعے درد اور تکلیف ظاہر کی گئی ہے۔ آگ، دھوپ، دھواں اور حدت وغیرہ جیسے الفاظ ذہن میں آتی ہی مشکلوں کا احساس نمودار ہوتا ہے۔ شاعرہ نے اس احساس کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ آپ کہتی ہیں کہ:-
میں نے کہا کہ دیپ کے دامن میں کیا جلا
اس نے کہا کہ آہ کو دل میں دبا کے دیکھ
۔۔۔
میں نے لمحوں میں گزرای ہیں ہزاروں صدیاں
وقت کی دھوپ میں پگھلا ہوا دریا دیکھا
۔۔۔
غبارِ دامن سمیٹ بھی لوں، غبارِ دل کا میں کیا کروں گی
وہیں پہ رِستا دھواں اُٹھے گا جہاں پہ آکے ملا کرو گے
۔۔۔
سر پٹختی پھر رہی تھی میں، ہوا اور تیری یاد
صحرا صحرا گھومتی اور ہانکتی ہی رہ گئی
۔۔۔
آپ ایک حساس طبیعت رکھتی ہیں اور تخلیق کاروں کی طرح ہر جذبے کو محسوس کرتی ہیں اور عام لوگوں سے ہٹ کر انہیں دیکھتی ہیں۔ چھوٹا سا واقعہ بھی آپ کو اثر انداز کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ خود کہتی ہیں کہ:-
آنکھ سے آنسو پھوٹ پڑے تھے
رات ایسی تحریر پڑھی تھی
۔۔۔
آپ کے ہاں رشتوں کی قدر و اہمیت ہے۔ چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، آپ سب کو عزت اور اہمیت دیتی ہیں اور جو امید یا سہارا کسی بڑے سے ملنے کی توقع ہوتی ہے آپ وہی چھوٹوں سے ملنے کی توقع بھی رکھتی ہیں۔ اشعار دیکھیے:-
مری عزت، مری شھرت، مری اس نیک نامی میں
مرے اجداد شامل ہیں مرے کرداد کے پیچھے
۔۔۔
شجر کے قدم ڈگمگانے لگے
اچانک دیا ہے سہارا کسی نے
۔۔۔
آپ اپنی ذات میں کشمکش اور الجھن کا شکار بھی نظر آتی ہے اور اکثر ان مسائل سے لڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ جیسے کہ:-
یہ کون ہے جو دعا کے ہاتھوں میں خوف باندھے
ہوا کے ہاتھوں سے زہر بن کر پھسل گیا ہے
۔۔۔
کل چاند آسمان پہ کچھ سرمئی سا تھا
جیسا کہ میری آنکھ میں کاجل گھلا ملا
۔۔۔
آپ کی معاشی مسائل پر بھی نگاہ رہتی ہے اور آپ کا شعر اس بات کا منھ بولتا ثبوت ہے:-
زمیں کی کوکھ میں جس نے کپاس بوئی تھی
اسی کی آنکھ میں دیکھی نہیں خوشی میں نے
۔۔۔
آپ کا سائینسی شعور بھی کم نہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ:-
دائروں کے بیچ میں ہے ایک اور دائرہ
نیوکلس اک مرکزہ ہے مرکزے پر دائرے
۔۔۔
آپ کی زندگی میں بھی نشیب و فراز آتے رہے اور آپ نے ان کا سامنا کیا۔ اسی کا نام زندگی ہے۔ آپ نے نہ صرف شاعری کی بلکہ شاعری میں اپنی زندگی کے واقعات کو جگہ دی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آپ نے شاعری کو اپنی زندگی دی ہے۔
جہاں آپ نے شاعری میں زندگی کی حقیقتوں اور تلخیوں کا اظہار کیا، وہیں آپ پریقین بھی نظر آتی ہیں کہ اچھا وقت بھی آئے گا۔ آپ کہتی ہیں کہ:-
مرے وطن کی یہ کہکشائیں محبتوں کی امین ہوں گی
شفق بھی اترے گی آسماں سے قمر بھی دست سوال ہوگا
۔۔۔
آپ کا مندرجہ بالا شعر آپ کی حب الوطنی اور زندگی کے حوالے سے آپ کا مثبت رویہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ کہنے میں نے کوئی برائی نہیں کہ آپ نے شاعری میں بہت محنت اور ریاضت کی ہے۔ آپ کے اشعار آپ کی محنت و لگن اور آپ کو اس ادبی سفر میں پیش آنے والی مشکلات کی داستان پیش کرتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور مزید عزتوں سے نوازے۔ (آمین!)


Comments
Post a Comment