ثمینہ گل کی کتاب دیدم
محترمہ ثمینہ گل صاحبہ کی کتاب "دیدم" پر اظہار خیال۔۔!! ادب کی فضا ہمیشہ سے خواتین کے لیے دشوار رہی ہے لیکن چند خواتین اپنی محنت اور لگن کی بدولت اپنا نام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نام "محترمہ ثمینہ گل" کا ہے۔ آپ اس وقت نہ صرف سرگودھا کی پہچان ہیں بلکہ آپ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خود اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی۔ آپ اپنی پہچان کرواتے ہوئے کہتی ہیں کہ:- عرق ہوں تھکن کا میں خوشبوئے گلاب ہوں دوستی جنوں سے ہے کوئے اضطراب ہوں آپ بہت خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ آپ کی شاعری میں تشبیہ و استعارہ کے استعمال کے ساتھ ساتھ منظر کشی بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں پھول، خوشبو، سورج، چاند، ستارے اور چراغ وغیرہ جیسی علامتیں استعمال کی ہیں اور ہر جگہ یہ الفاظ ایک الگ مفہوم پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کا زندگی کو دیکھنے اور اسے محسوس کرنے کا طریقہ کسی سے جدا نہیں۔ آپ کے نزدیک زندگی تکلیف اور اذیت کا نام ہے اور اکثر آپ اپنے ہونے کا گلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اشعار دیکھیے:- ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی ۔۔۔ کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چ...