اشفاق احمد کی انمول باتیں
. . اشفاق احمد کی انمول باتیں اشفاق احمد سے ایک واقعہ سُنا تھا جسے آج تک فراموش نہیں کر سکا ۔کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو سُوچا کہ آپ کے ساتھ اسے شئیر کر دوں اشفاق مرحوم فرماتے ہیں میں اپنے مُرشد کے حکم سے چلہ کشی کرتا ہوں عبادت کی چاشنی کے لیے لیکن اس کے لیے تنہائی چاہیے ہوتی ھے ۔تو میں جنگلوں کا رُخ نہیں کرتا کیونکہ جنگل صوفیاء اور ولی پیدا کرتے ہیں ۔میں صحراوں کا رُخ کرتا ہوں کیونکہ صحراوں نے نبی پیدا کیے ۔تو میں انبیاء کی سنت میں صحرا میں عبادت کے مزے لیتا ہوں وہ فرماتے ہیں کہ سندھ میں صحرائے تھر میں کسی مقام پر ڈیرا لگا رکھا تھا لیکن بستیوں کے قریب تھا ایک بستی سے بہت سے لوگ نکلتے بکریاں جانور چرانے جاتے کچھ شہر کو جاتے کچھ مختلف اجناس بیچنے جاتے اُن ہی لوگوں میں ایک نو عمر لڑکا پندرہ سولہ سال کا سر پر تربوز کا ٹوکرہ رکھ کر نکلتا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک نّنی بچی جس کی عمر پانچ چھ سال ہوگی وہ چلتی میں پوچھا تو پتہ چلا کہ ماں باپ مرچکے ہیں اس لیے یہ لڑکا تربوز اور کبھی خربوزے دوسری بستیوں میں جا کر بیچتا ھے اور بہن...