Posts

Showing posts from September, 2021

مصاحبے

Image
  آج اسالیب کے دفتر میں جناب ذوالفقار احسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موقع پر ان سے عصری ادبی منظر نامے، جامعات میں ادبی تحقیق اور شکیب جلالی کی شاعری کے علاوہ متعدد ادبی موضوعات پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب کا تذکرہ بھی کیا جو کہ اردو افسانے کی تنقید پر مشتمل ہے ۔  ۔ ۔ انہوں نے مجھے  اپنی کتاب "خواجہ اعجاز احمد بٹ بطور اقبال شناس" بھی عطا کی۔اس میں خواجہ صاحب کے سوانحی خاکے کے علاوہ ان کی اقبال شناسی پر لکھے گئے دیگر ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے اقبالیات پر اردو اور  انگریزی میں لکھے گئے  مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں  ۔  ۔ ۔  اس کے علاوہ ذوالفقار حسن نے مجھے فادر مختار عالم کی پنجابی شاعری کی کتاب "ابا میرے وچ"بھی عطا کی۔ اس کتاب میں مختار عالم کے شعری سفر اور ان کی شاعری کی جہات اور میلانات کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف،ذوالفقاراحسن، اور نسیم  اقبال بھٹی کے مضامین بھی شامل ہیں۔جن سے فادر مختار عالم کی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ذوالفقار احسن نے مجھے "حاج...

جنگ یمامہ

 *جنگ یمامہ*   مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی  جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی   اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔  خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں   یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"  بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:  مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے   درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"  صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ   سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ   خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔  13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو   اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔  یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی   نہ کبھی بعد میں لڑی"  اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد   خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259   صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ  کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے   ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔  اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی   ا...

ایم فل کے طلبہ کا امتحان

 آج مجھے  یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس میں ایم فل (اردو) کے طلبہ کا زبانی امتحان لینے کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اس بات پر خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ طلبہ نے اپنے موضوع کا کامیاب دفاع کیا۔اس کامیابی پر میں طلباء کو اور ان کے نگران صاحبان ڈاکٹر ارشد محمود ملک اور ڈاکٹر عبدالستار نیازی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔یونیورسٹی آف لاہور کا شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاحب کی سرپرستی میں معیاری تحقیقی کام کر رہا ہے۔انہوں نے سندی تحقیق میں معیار قائم رکھا ہوا ہے۔  . اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ کے ساتھ متعدد عالمی موضوعات پر گفتگو بھی ہوئی بالخصوص پروفیسر  ڈاکٹر مقبول نثار ملک،ڈاکٹر عابد خورشید ،ڈاکٹر عبدالستار نیازی اور ڈاکٹر ارشد ملک صاحب کے ساتھ ادب میں دینی روایت اور دینی نثر کے اسالیب کے علاوہ اسلام میں علم الکلام کی روایت میں معتزلہ اور اشاعرہ کے کردار اور معاصر متکلمین کی فکر کی مختلف جہتوں پر دلچسپ گفتگو ہوئی۔اس موقع پر میڈم ثمینہ گل اور میڈم رقیہ شبیر صاحبہ بھی موجود تھیں۔   ۔ ۔ میں نے موقع کی مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاح...

ساقی نامہ

  ۔ شاعر:ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال(رح) نظم: ساقی نامہ کتاب:بال جبریل لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند اب مناسب ہے تیرا فیض ہو عام اے ساقی مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شیر مردوں سے ہوا پیشہ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات ہو نہ روشن، تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تیرے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی۔ (ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال رح)

تعارف کتب

Image
  آج اسالیب کے دفتر میں جناب ذوالفقار احسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موقع پر ان سے عصری ادبی منظر نامے، جامعات میں ادبی تحقیق اور شکیب جلالی کی شاعری کے علاوہ متعدد ادبی موضوعات پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب کا تذکرہ بھی کیا جو کہ اردو افسانے کی تنقید پر مشتمل ہے ۔  ۔ ۔ انہوں نے مجھے  اپنی کتاب "خواجہ اعجاز احمد بٹ بطور اقبال شناس" بھی عطا کی۔اس میں خواجہ صاحب کے سوانحی خاکے کے علاوہ ان کی اقبال شناسی پر لکھے گئے دیگر ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے اقبالیات پر اردو اور  انگریزی میں لکھے گئے  مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں ۔  ۔ ۔  اس کے علاوہ ذوالفقار حسن نے مجھے فادر مختار عالم کی پنجابی شاعری کی کتاب "ابا میرے وچ"بھی عطا کی۔ اس کتاب میں مختار عالم کے شعری سفر اور ان کی شاعری کی جہات اور میلانات کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف،ذوالفقاراحسن، اور نسیم  اقبال بھٹی کے مضامین بھی شامل ہیں۔جن سے فادر مختار عالم کی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ذوالفقار احسن نے مجھے "حاجی محمد...

پھوٹی کوڑی

 پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔ دنیا کا پُرانا ترین سکہ یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی  ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔ تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے ...

ذوالفقار احسن

 .  .  .  .  .  ذوالفقار احسن   معروف شاعرو ادیب، محقق اور مدیر ِ ”اسالیب“ ذوالفقاراحسن نے کہا ہے کہ نئے لکھنے والوں کو کتابوں کی اشاعت کے سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ تجربہ کار اساتذہ¿ کرام سے استفادہ کامیابی کی ضمانت ہے ۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں اُنھیں اپنی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے کے لیے ریاضت سے کام لینا چاہیے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنھوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام دانش کدہ میں گفت گو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ذیشان منظور، میڈم سدرہ، محمد ارحم ذیشان، محمد عمر، عبدالہادی، محمد ابوبکر، اور محمد عبداللہ بھی موجود تھے۔ ذوالفقار احسن نے مزید کہاکہ ادبی اعتبار سے سرگودھا کی مٹی بہت زرخیز ہے ۔ یہاں سے متعدد نامور شاعروں ادیبوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ معروف بینکار اور آڈیٹر ذیشان منظور نے کہا کہ نسلِ نو کی تربیت میں اساتذہ اور والدین کا اہم کردار ہے ۔ بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ہمیں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ تابع فرمان اُولاد والدین کے لیے نعمتِ عظمٰی ہے ۔ میڈم سدرہ ن...

داغ دہلوی کی ایک غزل

Image
   .    .   داغ دہلوی کی ایک غزل م    .  .  ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہم  ہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہم  معشوق جائے حور ملے مے بجائے آب  محشر میں دو سوال کریں گے خدا سے ہم  گر تو کسی بہانے آ جائے وقت نزع  ظالم کریں ہزار بہانے قضا سے ہم  گو حال دل چھپاتے ہیں پر اس کو کیا کریں  آتے ہیں خود بہ خود نظر اک مبتلا سے ہم  ناچار اختیار کیا شیوۂ رقیب  کچھ بے حیائی خوب ہیں گزرے حیا سے ہم  مانگی نہ ہوگی خضر نے یوں عمر جاوداں  کیا اپنی موت مانگتے ہیں التجا سے ہم  دیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میں  بیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقش پا سے ہم  مجبور اپنی شیوۂ شرم و حیا سے تم  ناچار اضطراب دل مبتلا سے ہم یہ آرزو ہے آنکھ میں سرمہ لگائیں گے  اے داغؔ خاک پائے رسول خدا سے ہم داغ دہلوی 🖤🥀

اشفاق احمد کی انمول باتیں

   .  . اشفاق احمد کی انمول باتیں  اشفاق احمد  سے ایک واقعہ سُنا تھا جسے آج تک فراموش نہیں کر سکا ۔کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو سُوچا کہ آپ کے ساتھ اسے شئیر کر دوں  اشفاق مرحوم فرماتے ہیں میں اپنے مُرشد کے حکم سے چلہ کشی کرتا ہوں عبادت کی چاشنی کے لیے  لیکن اس کے لیے تنہائی چاہیے ہوتی ھے ۔تو میں جنگلوں کا رُخ نہیں کرتا کیونکہ جنگل صوفیاء اور ولی پیدا کرتے ہیں ۔میں صحراوں کا رُخ کرتا ہوں کیونکہ صحراوں نے نبی پیدا کیے ۔تو میں انبیاء کی سنت میں صحرا میں عبادت کے مزے لیتا ہوں  وہ  فرماتے ہیں کہ سندھ میں صحرائے تھر میں کسی مقام پر ڈیرا لگا رکھا تھا لیکن بستیوں کے قریب تھا  ایک بستی سے بہت سے لوگ نکلتے بکریاں جانور چرانے جاتے کچھ شہر کو جاتے کچھ مختلف اجناس بیچنے جاتے اُن ہی لوگوں میں ایک نو عمر لڑکا پندرہ سولہ سال کا سر پر تربوز کا ٹوکرہ رکھ کر نکلتا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک نّنی بچی جس کی عمر پانچ چھ سال ہوگی وہ چلتی  میں پوچھا تو پتہ چلا کہ ماں باپ مرچکے ہیں اس لیے یہ لڑکا تربوز اور کبھی خربوزے دوسری بستیوں میں جا کر بیچتا ھے اور بہن...

افغانستان کی نئی حکومت

  ‏افغانستان کی نئی حکومت کا اعلان ہوگیا وزرا کی مکمل فہرست وزیراعظم: ملا محمد حسن اخن    نائب وزیراعظم اول: ملا عبدالغنی برادر نائب وزیراعظم دوم: ملا عبدالسلام حنفی وزیردفاع: مولوی محمد یعقوب وزیرداخلہ: سراج الدین حقانی وزیرخارجہ: مولوی امیرخان متقی وزیرخزانہ: ملا ہدایت اللہ بدری ‏وزیرتجارت: قاری دین حنیف وزیرقانون: مولوی عبدالحکیم وزیرتعلیم: مولوی نوراللہ منیر وزیراطلاعات: ملا خیراللہ خیرخواہ وزیرحج و اوقاف: مولوی نورمحمد ثاقب وزیرسرحدات و قبائل: ملا نوراللہ نوری وزیرمہاجرین: حاجی خلیل الرحمن حقانی وزیرمواصلات: نجیب اللہ حقانی وزیرہائیرایجوکیشن: عبدالباقی ‏وزیرمعدنیات: ملا محمد یونس اخندزادہ وزیر پٹرولیم و کان کنی: ملا محمد عیسی اخند وزیرپانی و بجلی: ملا عبداللطیف منصور وزیر شہری ہوا بازی اور ٹرانسپورٹ: ملا حمیداللہ اخندزادہ وزیر دعوت و ارشاد(امربالمعروف و نھی عن المنکر): شیخ محمد خالد وزیر فوائد عامہ: ملا عبدالمنان عمری

Effect of coke

 ًًً*پیپسی اور کوکا کولا کی حقیقت*  *پوشید خزانے، صحت کے دشمن :*  *میں کوک پئیوں گا، مجھے پیپسی چاہیئے اس قسم کے جملے آپ کو اکثر سننے کو ملیں گے ان مشروبات کی کسی بوتل میں اگر اُکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائے تو دو دن میں گل کر اور دو ہفتے میں اندر حل ہو جائے گا جبکہ یہی دانت، ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد ہزارہا سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں صحت کے لیے حد درجہ خطرناک ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ بچے دیوانہ وار ان مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں؟*  *اس مطالبے کی وجہ ان کمپنیوں کی طرف سے انتہائی سحرانگیز اور گمراہ کن اشتہار بازی ہے جس کی وجہ سے بچے مشہور کرکٹرز، فلم سٹارز، ڈراموں کے ایکٹرز اور من پسند ہیروؤں کو انتہائی جذباتی انداز میں یہ مشروب پیتے ہوئے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں یہ چکاچوند ننھے منے بچوں کو مرعوب کر کے ان مشروب کا عادی بنا ڈالتی ہیں۔*  *ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم آدھا منافع اس بات پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں کہ عوام کوئی اور مشروب مانگنے کی بجائے پیپسی یا کوک کا نام لے کر مشروب طلب کریں ظاہر ہے اس اشتہار بازی ...

Hadees

بہت پیاری حدیث ھے، براے مہربانی پورا پڑھیں  *نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم* نے فرمایا  جب تم کچھ بھول جاو تو مجھ پر درود بھیجو ،  انشا اللّه یاد آ جاے گا  یہ بہت قیمتی حدیث ھے  سب کو بتاؤ اپنے دل میں مت رکھو.    سوال: نماز میں دو سجدے کیوں ھوتے ھیں ؟ *جواب*:  جب اللّه نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا  لیکن ابلیس نے نہیں کیا  تو اسکو مردود قرار دے کر جنت سے نکال دیا.  ابلیس کی یہ حالت دیکھ کر فرشتوں نے سجدہ_شکر ادا کیا اور کہا  *اے اللّه تیرا شکر ھے تو نے ھمیں اپنا حکم بجا لانے اور اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائی* وہ دو سجدے آج تک نماز میں ادا کئے جا رھے ھیں.  *1: سجدہ_حکم* *2: سجدہ_شکر* ایک صحابی نے *حضور_پاک صلی اللّه علیہ وصلم* سے پوچھا ھمیں کیسے پتہ چلے گا  کہ ھماری نماز قبول ھو گئی  ؟ *آپ صلی اللّه علیہ وصلم* نے فرمایا :- *جب تمہارا دل اگلی نماز پڑھنے کا کرے تو سمجھنا کہ تمھاری نماز قبول ھو گئی* *سبحان اللّه* کچھ لوگ ایسے میسج کو فارورڈ نہیں کرتے  تو *اللّه تعالی...

Election

اپنے موٹرسائیکلوں کی بانسر یاں نکال کر اور سائلنسر اتار کر گلیوں اور بازاروں میں بلاوجہ  گھومنے والے اپنے سپورٹروں کو میاں محمد نسیم اختر  صاحب کا یہ انتباہ قابل تحسین ہے کہ" آئندہ ان کا کوئی سپورٹر   بھی موٹرسائیکل کی بانسری نکال کر بازاروں میں نہ گھومے"۔  اب چودھری خان محمود ورک صاحب کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہیے دونوں ممبران کے حمایت یافتہ ان گماشتوں نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے انہوں نے  ہماری رات کی نیند حرام کر دی ہےاور دن کا سکون غارت کر دیا ہے ۔اب ان کے شر سے کوئی بیمار' بوڑھا اور طالب علم محفوظ نہیں ہے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ میٹرک کے طلبہ کے امتحانات شروع ہیں ۔اس ہلڑ بازی اور شور و غل کی وجہ سے نہ وہ صحیح طریقے سے اپنے امتحانات کی تیاری کر پا رہے ہیں اور نہ ہی رات کو سکون کی نیند سو سکتے ہیں ۔ سیاسی لوگوں کے پروردہ ان گماشتوں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ اور ذہنی سکون بھی غارت کر دیا ہے ۔ کچھ لونڈوں لفٹوں نے تو اپنی موٹرسائیکلوں کے سائلنسر مستقل طور پر  اتار دیے ہیں  اور ان کی بانسریاں بھی مستقل طور پر نکلوا دی ہیں ۔اور اب وہ آدھی ر...

عقائد و عبادات

میں استاد محترم جناب احسان الرحمان صاحب کا بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھ پر خصوصی شفقت فرماتے ہوئے مجھے اپنی کتاب "عقاید" (نقشبندی مجددی) توکلی کا نسخہ عنایت فرمایا ہے یہ کتاب یقینا میرے لئے مرشد کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔احسان الرحمان صاحب کا تعلق برصغیر کے معروف صوفیانہ سلسلے نقشبندیہ توکلیہ کے ساتھ ہے ۔ان کے والد محترم جناب خلیل الرحمن صاحب اس سلسلے کے باعمل صوفی تھے ۔ان کے مکاشفات اور کسب علم و فیض سے بہت سے لوگ مستفیض ہوئے اور ان کی زندگیاں بدل گئیں ۔ ان کے وصال کے بعد ان کے فرزند ارجمند جناب عتیق الرحمان صاحب نے اپنے دروس اور تصانیف و تالیف کے ذریعے ہر خاص و عام کی اصلاح اور روحانی آبیاری کا کام جاری رکھا ۔وہ خود بھی ساری زندگی  شریعت کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے اور مریدین کو بھی اس کا درس دیتے رہے ۔انہوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے نہ صرف تبلیغ اسلام کا کام کیا بلکہ ان کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے شریعت اور طریقت میں موجود دوئی  کو ختم کر کے  دونوں کو ان کی  خالص ترین شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ صرف تصوف کو حشود و زوائد...