On blogspot "Pas e Dewar" you can find literary essays on various topics ( fine art and education). You can also read research and critical reviews about different books, magzines and thesis.
سرگودھا کی سرزمین ادبی حوالے سے بہت زرخیز بھی ہے ۔ اس نے علم و ادب کی آبیاری میں ہمیشہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے اور ادبی روایت کو قائم رکھا ہے ۔ذوالفقار احسن دبستان سرگودھا کی ادبی تٹلیٹ کا ایک اہم نام ہے ۔انہوں نے سرگودھا میں ڈاکٹر وزیر آغا کی ادبی تحریک کے جلو میں آنکھ کھولی اور اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا ۔انہیں وزیر آغا کی ادبی محفلوں' مذاکروں اور مشاعروں سے مستفید ہونے اور اپنے تخلیقی ذوق کو ابھارنے کے بھرپور مواقع میسر آئے ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی ارادت میں شائع ہونے والے موقر ادبی جریدے "اوراق" نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزیدابھارنے اور جلا بخشے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے شاعر ' نقاد محقق اور براڈکاسٹر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے اور پوری آب و تاب سے ادبی افق پر جلوہ گر ہیں ۔ ۔ اب ان کی نئی مرتبہ کتاب " اعجاز احمد بٹ (بحثیت افسانہ نگار)" شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے خواجہ صاحب کے فکر و فن پر مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین شامل کیے ہیں ۔ اس کتاب میں ذوالفقار حسن کا ایک مضم...
. . . . . ذوالفقار احسن معروف شاعرو ادیب، محقق اور مدیر ِ ”اسالیب“ ذوالفقاراحسن نے کہا ہے کہ نئے لکھنے والوں کو کتابوں کی اشاعت کے سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ تجربہ کار اساتذہ¿ کرام سے استفادہ کامیابی کی ضمانت ہے ۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں اُنھیں اپنی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے کے لیے ریاضت سے کام لینا چاہیے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنھوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام دانش کدہ میں گفت گو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ذیشان منظور، میڈم سدرہ، محمد ارحم ذیشان، محمد عمر، عبدالہادی، محمد ابوبکر، اور محمد عبداللہ بھی موجود تھے۔ ذوالفقار احسن نے مزید کہاکہ ادبی اعتبار سے سرگودھا کی مٹی بہت زرخیز ہے ۔ یہاں سے متعدد نامور شاعروں ادیبوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ معروف بینکار اور آڈیٹر ذیشان منظور نے کہا کہ نسلِ نو کی تربیت میں اساتذہ اور والدین کا اہم کردار ہے ۔ بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ہمیں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ تابع فرمان اُولاد والدین کے لیے نعمتِ عظمٰی ہے ۔ میڈم سدرہ ن...
پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔ دنیا کا پُرانا ترین سکہ یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔ تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے ...
Comments
Post a Comment