Posts

Showing posts from October, 2021

Dr Abdul Qadeer Khan

Image
  ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میں 26 اگست کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد ازاں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو تشویشناک حالت کے باعث کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ہسپتال کے کوویڈ وارڈ میں داخل کردیا گیا۔ ان کے انتقال کی تصدیق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کی ہے۔        آپ کو یور نیم کی افردو گی کے ارزاں طریقے کی دریافت کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔1936ء میں  بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ وہیں ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ 1952ء میں کراچی آئے ۔ ڈی جے سائنس کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد سرکاری ملازمت اختیار کرلی۔ بعد ازاں ملازمت ترک کر کے مٹالرجی (دھات کاری) کی جدید ٹکنالوجی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے برلن چلے گئے۔ پھر ہالینڈ آگئے اور ڈیلنٹ یو نیورسٹی میں مٹالرجی کی اعلی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ وہیں انہیں پروفیسر ڈاکٹر ڈبلیو جی برجرز کی رفاقت میسر آئی۔ 1977ء میں پاکستان آگئے. اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کی ترغیب دی اور ہر ممکن طری...

اعجاز احمد بٹ (بحثیت افسانہ نگار)

 سرگودھا کی سرزمین ادبی حوالے سے بہت زرخیز بھی ہے ۔ اس نے علم و ادب کی آبیاری میں ہمیشہ ایک قدم آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے اور ادبی روایت کو قائم رکھا ہے ۔ذوالفقار احسن دبستان سرگودھا کی ادبی تٹلیٹ  کا ایک اہم نام ہے ۔انہوں نے سرگودھا میں ڈاکٹر وزیر آغا کی ادبی تحریک کے جلو میں آنکھ کھولی اور اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا ۔انہیں وزیر آغا کی ادبی محفلوں' مذاکروں اور مشاعروں سے مستفید ہونے اور اپنے تخلیقی ذوق کو ابھارنے کے بھرپور مواقع میسر آئے ۔ڈاکٹر وزیر آغا کی ارادت میں شائع ہونے والے موقر ادبی جریدے "اوراق" نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزیدابھارنے اور جلا بخشے میں اہم کردار ادا کیا ۔انہوں نے شاعر ' نقاد محقق اور براڈکاسٹر کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کی ہے اور پوری آب و تاب سے ادبی افق  پر جلوہ گر ہیں ۔  ۔ اب ان کی نئی مرتبہ کتاب " اعجاز احمد بٹ  (بحثیت  افسانہ نگار)" شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے  خواجہ صاحب کے فکر و فن پر مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین شامل کیے ہیں ۔ اس کتاب میں  ذوالفقار حسن کا ایک  مضم...

Death of Umar Sharif

Image
  معروف ادکار اور کامیڈین عمر شر انتقال کر گئے ۔ عمر شریف کو علاج کے لیے امریکا لے جایا جا رہا تھا تاہم طبعیت خراب ہونے پر عمر شریف کو جرمنی کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ امریکا پہنچنے سے قبل ہی عمر شریف اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ ۔ عمر شریف کی اہلیہ نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کر دی۔ عمر شریف کے انتقال پر معروف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کے بلند درجات کے لیے دعا کی جا رہی ہے ۔ محمد عمر ، جو پیشہ ورانہ طور پر عمر شریف کے نام سے جانا جاتا ہے ، 19 اپریل 1955 کو پیدا ہوا تھا۔. وہ ایک پاکستانی اداکار ، مزاح نگار ، ہدایت کار ، پروڈیوسر اور ٹیلی ویژن شخصیت تھے۔. انہیں برصغیر کے سب سے بڑے مزاح نگاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔. 1974 میں ، عمر نے 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکار کی حیثیت سے کراچی میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔. انہوں نے اسٹیج کا نام عمر ظریف  کا استعمال کرتے ہوئے تھیٹر میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں اس کا نام عمر شریف رکھ دیا۔. ان کے کچھ انتہائی مشہور کامیڈی اسٹیج ڈرامے 1989 کے بکرا قسطوں پہ  اور بڈا گھر پر ہے تھے۔.ڈرامہ س...

ثمینہ گل کی کتاب دیدم

Image
 محترمہ ثمینہ گل صاحبہ کی کتاب "دیدم" پر اظہار خیال۔۔!! ادب کی فضا ہمیشہ سے خواتین کے لیے دشوار رہی ہے لیکن چند خواتین اپنی محنت اور لگن کی بدولت اپنا نام بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے ایک نام "محترمہ ثمینہ گل" کا ہے۔ آپ اس وقت نہ صرف سرگودھا کی پہچان ہیں بلکہ آپ ہر اس عورت کی آواز ہیں جو خود اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتی۔ آپ اپنی پہچان کرواتے ہوئے کہتی ہیں کہ:- عرق ہوں تھکن کا میں خوشبوئے گلاب ہوں دوستی جنوں سے ہے کوئے اضطراب ہوں آپ بہت خوبصورت لب و لہجے کی شاعرہ ہیں۔ آپ کی شاعری میں تشبیہ و استعارہ کے استعمال کے ساتھ ساتھ منظر کشی بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں پھول، خوشبو، سورج، چاند، ستارے اور چراغ وغیرہ جیسی علامتیں استعمال کی ہیں اور ہر جگہ یہ الفاظ ایک الگ مفہوم پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کا زندگی کو دیکھنے اور اسے محسوس کرنے کا طریقہ کسی سے جدا نہیں۔ آپ کے نزدیک زندگی تکلیف اور اذیت کا نام ہے اور اکثر آپ اپنے ہونے کا گلہ کرتی نظر آتی ہیں۔ اشعار دیکھیے:- ڈوبتے سورج سے جا کے پوچھ لو آسماں پہ اک دھواں ہے زندگی ۔۔۔ کس کو یہاں تھا شوق کہ ہم خاک چ...