Posts

مصاحبے

Image
  آج اسالیب کے دفتر میں جناب ذوالفقار احسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موقع پر ان سے عصری ادبی منظر نامے، جامعات میں ادبی تحقیق اور شکیب جلالی کی شاعری کے علاوہ متعدد ادبی موضوعات پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب کا تذکرہ بھی کیا جو کہ اردو افسانے کی تنقید پر مشتمل ہے ۔  ۔ ۔ انہوں نے مجھے  اپنی کتاب "خواجہ اعجاز احمد بٹ بطور اقبال شناس" بھی عطا کی۔اس میں خواجہ صاحب کے سوانحی خاکے کے علاوہ ان کی اقبال شناسی پر لکھے گئے دیگر ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے اقبالیات پر اردو اور  انگریزی میں لکھے گئے  مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں  ۔  ۔ ۔  اس کے علاوہ ذوالفقار حسن نے مجھے فادر مختار عالم کی پنجابی شاعری کی کتاب "ابا میرے وچ"بھی عطا کی۔ اس کتاب میں مختار عالم کے شعری سفر اور ان کی شاعری کی جہات اور میلانات کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف،ذوالفقاراحسن، اور نسیم  اقبال بھٹی کے مضامین بھی شامل ہیں۔جن سے فادر مختار عالم کی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ذوالفقار احسن نے مجھے "حاج...

جنگ یمامہ

 *جنگ یمامہ*   مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی  جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی   اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔  خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں   یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"  بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:  مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے   درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"  صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ   سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ   خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔  13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو   اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔  یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی   نہ کبھی بعد میں لڑی"  اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد   خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259   صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ  کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے   ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔  اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی   ا...

ایم فل کے طلبہ کا امتحان

 آج مجھے  یونیورسٹی آف لاہور سرگودھا کیمپس میں ایم فل (اردو) کے طلبہ کا زبانی امتحان لینے کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ میں اس بات پر خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ طلبہ نے اپنے موضوع کا کامیاب دفاع کیا۔اس کامیابی پر میں طلباء کو اور ان کے نگران صاحبان ڈاکٹر ارشد محمود ملک اور ڈاکٹر عبدالستار نیازی صاحب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔یونیورسٹی آف لاہور کا شعبہ اردو پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاحب کی سرپرستی میں معیاری تحقیقی کام کر رہا ہے۔انہوں نے سندی تحقیق میں معیار قائم رکھا ہوا ہے۔  . اس موقع پر شعبہ اردو کے اساتذہ کے ساتھ متعدد عالمی موضوعات پر گفتگو بھی ہوئی بالخصوص پروفیسر  ڈاکٹر مقبول نثار ملک،ڈاکٹر عابد خورشید ،ڈاکٹر عبدالستار نیازی اور ڈاکٹر ارشد ملک صاحب کے ساتھ ادب میں دینی روایت اور دینی نثر کے اسالیب کے علاوہ اسلام میں علم الکلام کی روایت میں معتزلہ اور اشاعرہ کے کردار اور معاصر متکلمین کی فکر کی مختلف جہتوں پر دلچسپ گفتگو ہوئی۔اس موقع پر میڈم ثمینہ گل اور میڈم رقیہ شبیر صاحبہ بھی موجود تھیں۔   ۔ ۔ میں نے موقع کی مناسبت سے پروفیسر ڈاکٹر مقبول نثار ملک صاح...

ساقی نامہ

  ۔ شاعر:ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال(رح) نظم: ساقی نامہ کتاب:بال جبریل لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند اب مناسب ہے تیرا فیض ہو عام اے ساقی مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شیر مردوں سے ہوا پیشہ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات ہو نہ روشن، تو سخن مرگ دوام اے ساقی تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ تیرے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی۔ (ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال رح)

تعارف کتب

Image
  آج اسالیب کے دفتر میں جناب ذوالفقار احسن صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موقع پر ان سے عصری ادبی منظر نامے، جامعات میں ادبی تحقیق اور شکیب جلالی کی شاعری کے علاوہ متعدد ادبی موضوعات پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب کا تذکرہ بھی کیا جو کہ اردو افسانے کی تنقید پر مشتمل ہے ۔  ۔ ۔ انہوں نے مجھے  اپنی کتاب "خواجہ اعجاز احمد بٹ بطور اقبال شناس" بھی عطا کی۔اس میں خواجہ صاحب کے سوانحی خاکے کے علاوہ ان کی اقبال شناسی پر لکھے گئے دیگر ناقدین کے مضامین بھی شامل ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے اقبالیات پر اردو اور  انگریزی میں لکھے گئے  مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں ۔  ۔ ۔  اس کے علاوہ ذوالفقار حسن نے مجھے فادر مختار عالم کی پنجابی شاعری کی کتاب "ابا میرے وچ"بھی عطا کی۔ اس کتاب میں مختار عالم کے شعری سفر اور ان کی شاعری کی جہات اور میلانات کے متعلق پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، پروفیسر ڈاکٹر شفیق آصف،ذوالفقاراحسن، اور نسیم  اقبال بھٹی کے مضامین بھی شامل ہیں۔جن سے فادر مختار عالم کی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ذوالفقار احسن نے مجھے "حاجی محمد...

پھوٹی کوڑی

 پھوٹی کوڑی مغل دور حکومت کی ایک کرنسی تھی جس کی قدر سب سے کم تھی۔ 3 پھوٹی کوڑیوں سے ایک کوڑی بنتی تھی اور 10 کوڑیوں سے ایک دمڑی۔ علاوہ ازیں اردو زبان کے روزمرہ میں "پھوٹی کوڑی" کو محاورتاً محتاجی کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً میرے پاس پھوڑی کوڑی تک نہیں بچی۔ دنیا کا پُرانا ترین سکہ یہی ’’پھوٹی کوڑی ‘‘ہے۔یہ پھوٹی کوڑی  ’’کوڑی‘‘ یا پھٹا ہوا گھونگھا ہے۔ جسے کوڑی گھونگھے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا استعمال دنیا میں کوئی پانچ ہزار (5000) سال قبل وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں بطور کرنسی عام تھا۔ ’’پھوٹی ‘‘ کا نام اسے اس لئے دیا گیا کیونکہ اس کی ایک طرف پھٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لیے کوڑی کا گھونگا ’’پھوٹی کوڑی‘‘ کہلایا۔ قدرتی طور پر گھونگھوں کی پیدا وار محدود تھی۔ اس کی کمیابی سے یہ مطلب لیا گیا کہ اس کی کوئی قدر / ویلیو ہے۔ تین پھوٹی کوڑیوں کے گھونگھے ایک پوری کوڑی کے برابر تھے۔ جو ایک چھوٹا سا سمندری گھونگھا تھا۔ لیکن ان دونوں کی کوئی آخری حیثیت / ویلیو تھی۔ وہ ’’روپا‘‘تھی۔ جسے بعد میں ’’روپیہ‘‘ کہاجانے لگا۔۔ ایک’’روپیہ ‘‘5,275’‘پھوٹی کوڑیوں‘‘ کے برابر تھا۔ ان کے ...

ذوالفقار احسن

 .  .  .  .  .  ذوالفقار احسن   معروف شاعرو ادیب، محقق اور مدیر ِ ”اسالیب“ ذوالفقاراحسن نے کہا ہے کہ نئے لکھنے والوں کو کتابوں کی اشاعت کے سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ تجربہ کار اساتذہ¿ کرام سے استفادہ کامیابی کی ضمانت ہے ۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں اُنھیں اپنی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ اُٹھانے کے لیے ریاضت سے کام لینا چاہیے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنھوں نے ریڈیو پاکستان کے پروگرام دانش کدہ میں گفت گو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ذیشان منظور، میڈم سدرہ، محمد ارحم ذیشان، محمد عمر، عبدالہادی، محمد ابوبکر، اور محمد عبداللہ بھی موجود تھے۔ ذوالفقار احسن نے مزید کہاکہ ادبی اعتبار سے سرگودھا کی مٹی بہت زرخیز ہے ۔ یہاں سے متعدد نامور شاعروں ادیبوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ معروف بینکار اور آڈیٹر ذیشان منظور نے کہا کہ نسلِ نو کی تربیت میں اساتذہ اور والدین کا اہم کردار ہے ۔ بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ہمیں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ تابع فرمان اُولاد والدین کے لیے نعمتِ عظمٰی ہے ۔ میڈم سدرہ ن...